Recitation

Next: 21_77


Arabic

وَنُوحًا إِذۡ نَادَىٰ مِن قَبۡلُ فَٱسۡتَجَبۡنَا لَهُۥ فَنَجَّيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥ مِنَ ٱلۡكَرۡبِ ٱلۡعَظِيمِ


Urdu

اور یہی نعمت ہم نے نوحؑ کو دی یاد کرو جبکہ اِن سب سے پہلے اُس نے ہمیں پکارا تھا ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے نجات دی


English

And [mention] Noah, when he called [to Allah] before [that time], so We responded to him and saved him and his family from the great flood


Tafsir — Bayan ul Quran

حضرت نوح نے انتہائی لمبی مدت تک اپنی قوم کو دعوت دی۔ مگر چند لوگوں کے سوا کسی نے اصلاح قبول نہ کی۔ آخر کار حضرت نوح نے اپنی قوم کی ہلاکت کی دعا کی۔ اس کے بعد ایسا سخت سیلاب آیا کہ پہاڑ کی چوٹیاں بھی لوگوں کو بچانے سے عاجز ہوگئیں۔ یہ واقعہ اگرچہ پیغمبر کی سطح پر پیش آیا۔ تاہم عام انسانوں کے لیے بھی اس میں بہت تسکین کا سامان ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں بگاڑ پیدا کرنے والے بالکل آزاد نہیں ہیں۔ اور سچائی کے لیے اٹھنے والا شخص بالکل اکیلا نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص سچائی سے اس حد تک اپنے آپ کو وابستہ کرے کہ وہ دنیا میں سچائی کا نمائندہ بن جائے تو اس کے بعد وہ دنیا میں اکیلا نہیں رہتا۔ بلکہ خدا اس کے ساتھ ہوجاتا ہے اور جس کے ساتھ خدا ہوجائے اس کو کون زیر کرسکتا ہے۔


Connections

  • Previous: 21_75
  • Next: 21_77
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes