Recitation
Next: 22_36
Arabic
ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتۡ قُلُوبُهُمۡ وَٱلصَّـٰبِرِينَ عَلَىٰ مَآ أَصَابَهُمۡ وَٱلۡمُقِيمِي ٱلصَّلَوٰةِ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ
Urdu
جن کا حال یہ ہے کہ اللہ کا ذکر سُنتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں، جو مصیبت بھی اُن پر آتی ہے اُس پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ رزق ہم نے اُن کو دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں
English
Who, when Allah is mentioned, their hearts are fearful, and [to] the patient over what has afflicted them, and the establishers of prayer and those who spend from what We have provided them
Tafsir — Bayan ul Quran
انسان اس دنیا میں جو بھی پیداوار حاصل کرتا ہے، خواہ وہ زرعی پیدا وار ہو یا حیوانی پیداوار یا صنعتی پیداوار، ان کے بارے میں اس کے اندر دو قسم کی ممکن نفسیات پیدا ہوتی ہیں۔ایک یہ کہ یہ میری اپنی کمائی ہے یا یہ کہ وہ معبودوں کی برکت کا نتیجہ ہے۔ یہ نفسیات سراسر مشرکانہ نفسیات ہے۔ دوسری نفسیات یہ ہے کہ آدمی جو کچھ حاصل کرے اس کو وہ خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھے۔ عُشر اور زکوٰۃ اور قربانی اسی دوسرے جذبے کے خارجی اظہار کے مقرره طریقے ہیں۔ آدمی اپنی کمائی کا ایک حصہ خدا کی راہ میں نذر کرتا ہے اور اس طرح وہ اس بات کا عملی اقرار کرتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ خدا کا عطیہ ہے، نہ کہ محض اس کا اپنا کسب۔ انسان کو اگر صحیح معنوں میں خدا کی معرفت حاصل ہوجائے تو اس کے بعد اس کے دل کا جو حال ہوگا وہ وہی ہوگا جس کو یہاں اِخبات کہاگیا ہے۔ ایسا آدمی ہمہ تن خدا کی طرف متوجہ ہوجائے گا۔ اس پر عجز کی کیفیت طاری ہوجائے گی۔ اللہ کے تصور سے اس کا دل دہل ا ٹھے گا۔ وہ اپنی ہر چیز کوخدا کی چیز سمجھنے لگے گا، نہ کہ اپنی ذاتی چیز۔