Recitation

Next: 22_37


Arabic

وَٱلۡبُدۡنَ جَعَلۡنَٰهَا لَكُم مِّن شَعَـٰٓئِرِ ٱللَّهِ لَكُمۡ فِيهَا خَيۡرٞۖ فَٱذۡكُرُواْ ٱسۡمَ ٱللَّهِ عَلَيۡهَا صَوَآفَّۖ فَإِذَا وَجَبَتۡ جُنُوبُهَا فَكُلُواْ مِنۡهَا وَأَطۡعِمُواْ ٱلۡقَانِعَ وَٱلۡمُعۡتَرَّۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرۡنَٰهَا لَكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ


Urdu

اور (قربانی کے) اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے شعائر اللہ میں شامل کیا ہے، تمہارے لیے اُن میں بھَلائی ہے، پس انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو، اور جب (قربانی کے بعد) ان کی پیٹھیں زمین پر ٹک جائیں تو اُن میں سے خود بھی کھاؤ اور اُن کو بھی کھلاؤ جو قناعت کیے بیٹھے ہیں اور اُن کو بھی جو اپنی حاجت پیش کریں اِن جانوروں کو ہم نے اِس طرح تمہارے لیے مسخّر کیا ہے تاکہ تم شکریہ ادا کرو


English

And the camels and cattle We have appointed for you as among the symbols of Allah; for you therein is good. So mention the name of Allah upon them when lined up [for sacrifice]; and when they are [lifeless] on their sides, then eat from them and feed the needy and the beggar. Thus have We subjected them to you that you may be grateful


Tafsir — Bayan ul Quran

دنیا میںاگر اونٹ اور دوسرے مویشی نہ ہوتے، صرف شیر اور ریچھ اور بھیڑيے ہوتے تو ان سے خدمت لینا انسان کے ليے بہت مشکل ہوتا۔ اور ان کو عمومی پیمانہ پر قربان کرنا تو بالکل ناممکن ہوجاتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے صرف وحشی اور درندہ جانور نہیں پیدا كيے۔ بلکہ کچھ ایسے جانور بھی پیدا کيے جن میں فطری طورپریہ مزاج موجود ہے کہ وہ اپنے آپ کو انسان کے قابو میں دے دیتے ہیں۔ اور جب انسان ان کو غذا یا قربانی کے ليے ذبح کرتا ہے تو اس وقت ان کی تسخیری فطرت اپنی آخری حد پر پہنچ جاتی ہے۔ قربانی کا طریقہ اس ليے مقرر نہیں کیا گیا ہے کہ خدا کو گوشت اور خون کی ضرورت ہے۔ قربانی تو صرف ایک علامتی فعل ہے۔ جانور کی قربانی اس انسان کی ایک ظاہری تصویر ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے ليے ذبح کرچکا ہے۔ یہ دراصل خود اپنا ذبیحہ ہے جو جانور کے ذبیحہ کی صورت میں ممثل ہوتاہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے لیے جانور کی قربانی خود اپنی قربانی کے ہم معنی بن جائے۔


Connections

  • Previous: 22_35
  • Next: 22_37
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes