Recitation
Next: 24_40
Arabic
وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَعۡمَٰلُهُمۡ كَسَرَابِۭ بِقِيعَةٖ يَحۡسَبُهُ ٱلظَّمۡـَٔانُ مَآءً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَهُۥ لَمۡ يَجِدۡهُ شَيۡـٔٗا وَوَجَدَ ٱللَّهَ عِندَهُۥ فَوَفَّىٰهُ حِسَابَهُۥۗ وَٱللَّهُ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ
Urdu
(اس کے برعکس) جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بے آب میں سراب کہ پیاسا اُس کو پانی سمجھے ہوئے تھا، مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا، بلکہ وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا، جس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا، اور اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی
English
But those who disbelieved - their deeds are like a mirage in a lowland which a thirsty one thinks is water until, when he comes to it, he finds it is nothing but finds Allah before Him, and He will pay him in full his due; and Allah is swift in account
Tafsir — Bayan ul Quran
انسانوں کی ایک قسم وہ ہے جس کا ذکر آیت 35 میں تھا۔ یہ وہ انسان ہے جو اپنی فطری استعداد کو زندہ رکھتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایمان کی دولت سے سرفراز ہوتا ہے۔ اب آیت 39-40 میںانسانوں کی مزید دو قسموں کا ذکر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا تیل دعوتِ حق کی آگ سے بھڑکنے کے ليے تیار نہیں ہوتا۔ ایک قسم وہ ہے جو کسی خود ساختہ دین پر قائم رہتی ہے۔ وہ جھوٹی تمناؤں کا ایک محل بناکر اس میں خوش رہتی ہے۔ یہ لوگ اسی طرح خوش گمانیوں میں پڑے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب موت آتی ہے تو ان کی خوش گمانیوں کا طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔ اور پھر اچانک انھیں معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کو وہ منزل سمجھے ہوئے تھے وہ ہلاکت کے گڑھے کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ دوسری قسم وہ ہے جو کھلم کھلا منکروں اور باغیوں کی ہے۔ یہ لوگ خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر بطور خود ہدایت وضع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر وہ سراسر ناکام رہتے ہیں۔ کیوں کہ اس دنیا میں ہدایت دینے والا خدا کے سوا اور کوئی نہیں۔ خدا کو چھوڑنے کے بعد آدمی کے حصہ میں اس کے سوا کچھ نہیں رہتا کہ وہ ابدی طورپر اندھیرے میں بھٹکتا رہے۔