Recitation
Next: 24_41
Arabic
أَوۡ كَظُلُمَٰتٖ فِي بَحۡرٖ لُّجِّيّٖ يَغۡشَىٰهُ مَوۡجٞ مِّن فَوۡقِهِۦ مَوۡجٞ مِّن فَوۡقِهِۦ سَحَابٞۚ ظُلُمَٰتُۢ بَعۡضُهَا فَوۡقَ بَعۡضٍ إِذَآ أَخۡرَجَ يَدَهُۥ لَمۡ يَكَدۡ يَرَىٰهَاۗ وَمَن لَّمۡ يَجۡعَلِ ٱللَّهُ لَهُۥ نُورٗا فَمَا لَهُۥ مِن نُّورٍ
Urdu
یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا، کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے، اُس پر ایک اور موج، اور اس کے اوپر بادل، تاریکی پر تاریکی مسلط ہے، آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے جسے اللہ نور نہ بخشے اُس کے لیے پھر کوئی نور نہیں
English
Or [they are] like darknesses within an unfathomable sea which is covered by waves, upon which are waves, over which are clouds - darknesses, some of them upon others. When one puts out his hand [therein], he can hardly see it. And he to whom Allah has not granted light - for him there is no light
Tafsir — Bayan ul Quran
انسانوں کی ایک قسم وہ ہے جس کا ذکر آیت 35 میں تھا۔ یہ وہ انسان ہے جو اپنی فطری استعداد کو زندہ رکھتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایمان کی دولت سے سرفراز ہوتا ہے۔ اب آیت 39-40 میںانسانوں کی مزید دو قسموں کا ذکر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا تیل دعوتِ حق کی آگ سے بھڑکنے کے ليے تیار نہیں ہوتا۔ ایک قسم وہ ہے جو کسی خود ساختہ دین پر قائم رہتی ہے۔ وہ جھوٹی تمناؤں کا ایک محل بناکر اس میں خوش رہتی ہے۔ یہ لوگ اسی طرح خوش گمانیوں میں پڑے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب موت آتی ہے تو ان کی خوش گمانیوں کا طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔ اور پھر اچانک انھیں معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کو وہ منزل سمجھے ہوئے تھے وہ ہلاکت کے گڑھے کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ دوسری قسم وہ ہے جو کھلم کھلا منکروں اور باغیوں کی ہے۔ یہ لوگ خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر بطور خود ہدایت وضع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر وہ سراسر ناکام رہتے ہیں۔ کیوں کہ اس دنیا میں ہدایت دینے والا خدا کے سوا اور کوئی نہیں۔ خدا کو چھوڑنے کے بعد آدمی کے حصہ میں اس کے سوا کچھ نہیں رہتا کہ وہ ابدی طورپر اندھیرے میں بھٹکتا رہے۔