Recitation
Next: 25_37
Arabic
فَقُلۡنَا ٱذۡهَبَآ إِلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا فَدَمَّرۡنَٰهُمۡ تَدۡمِيرٗا
Urdu
اور اُن سے کہا کہ جاؤ اُس قوم کی طرف جس نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے آخر کار اُن لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا
English
And We said, “Go both of you to the people who have denied Our signs.” Then We destroyed them with [complete] destruction
Tafsir — Bayan ul Quran
قرآن بار بار جن پیغمبروں کا حوالہ دیتاہے ان میں سے اکثر وہ ہیں جن کا ذکر انسانیت کی مدون تاریخ میں جگہ نہ پاسکا۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ ان پیغمبروں کے ہم عصر عقلاء نے ان کو کوئی اہمیت نہ دی۔ انھوںنے بادشاہوں اور فوجی ہیروؤں کے حالات جوش کے ساتھ لکھے کیوں کہ ان کے حالات میں سیاسی پہلو موجود تھا۔ مگر انھوں نے پیغمبروں کو نظر انداز کردیا کیوں کہ ان کے حالات میں سیاسی ذوق کی تسکین کا سامان موجود نہ تھا۔ عجیب بات ہے کہ یہ مزاج آج بھی مکمل طورپر موجود ہے۔ آج بھی جو لوگ اپنے آپ کو سیاسی پلیٹ فارم پر نمایاں کریں وہ فوراً پریس اور ریڈیو میں جگہ پالیتے ہیں اور جو لوگ غیر سیاسی میدان میں کام کریں ان کو آج کا انسان بھی زیادہ قابل تذکرہ نہیں سمجھتا۔ انسان سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ واقعات سے سبق لے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر سب سے کم پائی جاتی ہے، موجودہ زمانہ میں بھی اور اس سے پہلے کے زمانہ میں بھی۔