Recitation
Next: 25_38
Arabic
وَقَوۡمَ نُوحٖ لَّمَّا كَذَّبُواْ ٱلرُّسُلَ أَغۡرَقۡنَٰهُمۡ وَجَعَلۡنَٰهُمۡ لِلنَّاسِ ءَايَةٗۖ وَأَعۡتَدۡنَا لِلظَّـٰلِمِينَ عَذَابًا أَلِيمٗا
Urdu
یہی حال قوم نوحؑ کا ہوا جب انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی ہم نے اُن کو غرق کر دیا اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک نشان عبرت بنا دیا اور ان ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب ہم نے مہیا کر رکھا ہے
English
And the people of Noah - when they denied the messengers, We drowned them, and We made them for mankind a sign. And We have prepared for the wrongdoers a painful punishment
Tafsir — Bayan ul Quran
قرآن بار بار جن پیغمبروں کا حوالہ دیتاہے ان میں سے اکثر وہ ہیں جن کا ذکر انسانیت کی مدون تاریخ میں جگہ نہ پاسکا۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ ان پیغمبروں کے ہم عصر عقلاء نے ان کو کوئی اہمیت نہ دی۔ انھوںنے بادشاہوں اور فوجی ہیروؤں کے حالات جوش کے ساتھ لکھے کیوں کہ ان کے حالات میں سیاسی پہلو موجود تھا۔ مگر انھوں نے پیغمبروں کو نظر انداز کردیا کیوں کہ ان کے حالات میں سیاسی ذوق کی تسکین کا سامان موجود نہ تھا۔ عجیب بات ہے کہ یہ مزاج آج بھی مکمل طورپر موجود ہے۔ آج بھی جو لوگ اپنے آپ کو سیاسی پلیٹ فارم پر نمایاں کریں وہ فوراً پریس اور ریڈیو میں جگہ پالیتے ہیں اور جو لوگ غیر سیاسی میدان میں کام کریں ان کو آج کا انسان بھی زیادہ قابل تذکرہ نہیں سمجھتا۔ انسان سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ واقعات سے سبق لے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر سب سے کم پائی جاتی ہے، موجودہ زمانہ میں بھی اور اس سے پہلے کے زمانہ میں بھی۔