Recitation
Next: 29_34
Arabic
وَلَمَّآ أَن جَآءَتۡ رُسُلُنَا لُوطٗا سِيٓءَ بِهِمۡ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعٗاۖ وَقَالُواْ لَا تَخَفۡ وَلَا تَحۡزَنۡ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهۡلَكَ إِلَّا ٱمۡرَأَتَكَ كَانَتۡ مِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ
Urdu
پھر جب ہمارے فرستادے لوطؑ کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور دل تنگ ہوا اُنہوں نے کہا “نہ ڈرو اور نہ رنج کرو ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچا لیں گے، سوائے تمہاری بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے
English
And when Our messengers came to Lot, he was distressed for them and felt for them great discomfort. They said, “Fear not, nor grieve. Indeed, we will save you and your family, except your wife; she is to be of those who remain behind
Tafsir — Bayan ul Quran
قوم لوط کا علاقہ (سدوم، عمورہ) شدید زلزلہ سے تباہ کردیاگیا۔ وہ سر سبز وشاداب وادی جہاں چار ہزار سال پہلے یہ قوم آبادتھی، اب وہاں بحر مردار کا کثیف پانی پھیلا ہوا ہے۔ قرآن کے بیان کے مطابق تباہی کا یہ واقعہ خدا کے فرشتوں کے ذریعہ ظہور میں آیا۔ مگر جغرافیہ اور آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقہ میں جب ارضی عمل سے پہاڑ ابھرے تو اسی کے ساتھ زمین کے ایک حصہ میں ڈھلان (escarpment)پیدا ہوگیا۔ بعد کو اس ڈھلان کے جنوبی حصہ میں سمندر کا پانی بھر گیا۔ اس طرح وہ خشک حصہ پانی کے نیچے آگیا جس کو اب بحر مردار کا کم گہرا جنوبی کنارہ کہاجاتاہے — قرآن میں جو چیز خدائی نشان ہے وہ غیر قرآنی مشاہدہ میں صرف ایک طبیعی واقعہ نظر آتی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس بربادشدہ بستی کے کھنڈر اب بھی سمندر کے پانی کے نیچے پائے جاتے ہیں۔ بلا شبہ اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ مگر یہ عبرت صرف ان لوگوں کےلیے ہے جو باتوں کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔