Recitation
Next: 29_35
Arabic
إِنَّا مُنزِلُونَ عَلَىٰٓ أَهۡلِ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةِ رِجۡزٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ
Urdu
ہم اس بستی کے لوگوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اُس فسق کی بدولت جو یہ کرتے رہے ہیں
English
Indeed, we will bring down on the people of this city punishment from the sky because they have been defiantly disobedient
Tafsir — Bayan ul Quran
قوم لوط کا علاقہ (سدوم، عمورہ) شدید زلزلہ سے تباہ کردیاگیا۔ وہ سر سبز وشاداب وادی جہاں چار ہزار سال پہلے یہ قوم آبادتھی، اب وہاں بحر مردار کا کثیف پانی پھیلا ہوا ہے۔ قرآن کے بیان کے مطابق تباہی کا یہ واقعہ خدا کے فرشتوں کے ذریعہ ظہور میں آیا۔ مگر جغرافیہ اور آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقہ میں جب ارضی عمل سے پہاڑ ابھرے تو اسی کے ساتھ زمین کے ایک حصہ میں ڈھلان (escarpment)پیدا ہوگیا۔ بعد کو اس ڈھلان کے جنوبی حصہ میں سمندر کا پانی بھر گیا۔ اس طرح وہ خشک حصہ پانی کے نیچے آگیا جس کو اب بحر مردار کا کم گہرا جنوبی کنارہ کہاجاتاہے — قرآن میں جو چیز خدائی نشان ہے وہ غیر قرآنی مشاہدہ میں صرف ایک طبیعی واقعہ نظر آتی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس بربادشدہ بستی کے کھنڈر اب بھی سمندر کے پانی کے نیچے پائے جاتے ہیں۔ بلا شبہ اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ مگر یہ عبرت صرف ان لوگوں کےلیے ہے جو باتوں کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔