Recitation
Next: 3_48
Arabic
قَالَتۡ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي وَلَدٞ وَلَمۡ يَمۡسَسۡنِي بَشَرٞۖ قَالَ كَذَٰلِكِ ٱللَّهُ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ إِذَا قَضَىٰٓ أَمۡرٗا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ
Urdu
یہ سن کر مریمؑ بولی، “پروردگار! میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا، مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا” جواب ملا، “ایسا ہی ہوگا، اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے
English
She said, “My Lord, how will I have a child when no man has touched me?” [The angel] said, “Such is Allah; He creates what He wills. When He decrees a matter, He only says to it, ‘Be,’ and it is
Tafsir — Bayan ul Quran
یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ آسمانی ہدایت کے امین بن سکیں۔ اب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ یہ امانت ان سے چھین کر آل ابراہیم کی دوسری شاخ (بنی اسماعیل) کو دے دی جائے۔ اس فیصلہ کے نفاذ سے پہلے یہود پر اتمام حجت ضروری تھا۔ حضرت مسیح اسی اتمام حجت کے لیے بھیجے گئے۔ آنجناب کی فوق العادت پیدائش اور آپ کو غیر معمولی معجزات کا دیا جانا اسی لیے تھا کہ یہود کو اس بار ے میں کوئی شبہ نہ رہے کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اور خدا کی طرف سے بول رہے ہیں۔ حضرت مسیح اپنے ساتھ نہ صرف فوق الفطری نشانیاں رکھتے تھے بلکہ وہ اتنے مؤثر اور مدلل انداز میں بولتے تھے کہ ان کے زمانہ میں کوئی اس طرح بولنے پر قادر نہ تھا۔ پہلی بار جب آپ نے یروشلم کے ہیکل میں تقریر کی تو یہودی علما آپ کی باتوں کو سن کر دنگ رہ گئے (لوقا ۲:۴۸) یہ ان کی معجز نما شخصیت اور ان کے مبہوت کردینے والے کلام ہی کا اثر تھا کہ اگر چہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے مگر آپ کے سامنے کسی کو جرأت نہ ہوسکی کہ اس پہلو سے آپ کو مطعون کرے۔ تاہم یہود اتنے بے حس اور اتنے سرکش ہوچکے تھے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل سامنے آجانے کے باوجود انھوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا۔ ’’اس میں نشانی ہے ایمان والوں کے لیے‘‘ — یعنی جو دلیل پیش کی جارہی ہے وہ بذات خود اگر چہ مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔