Recitation
Next: 3_56
Arabic
إِذۡ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَىٰٓ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوكَ فَوۡقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ ثُمَّ إِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ فِيمَا كُنتُمۡ فِيهِ تَخۡتَلِفُونَ
Urdu
(وہ اللہ کی خفیہ تدبیر ہی تھی) جب اُس نے کہا کہ، “اے عیسیٰؑ! اب میں تجھے واپس لے لوں گا اور تجھ کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور جنہوں نے تیرا انکار کیا ہے اُن سے (یعنی ان کی معیت سے اور ان کے گندے ماحول میں ان کے ساتھ رہنے سے) تجھے پاک کر دوں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک ان لوگوں پر بالادست رکھوں گا جنہوں نے تیرا انکار کیا ہے پھر تم سب کو آخر میرے پاس آنا ہے، اُس وقت میں اُن باتوں کا فیصلہ کر دوں گا جن میں تمہارے درمیان اختلاف ہوا ہے
English
[Mention] when Allah said, “O Jesus, indeed I will take you and raise you to Myself and purify you from those who disbelieve and make those who follow you [in submission to Allah alone] superior to those who disbelieve until the Day of Resurrection. Then to Me is your return, and I will judge between you concerning that in which you used to differ
Tafsir — Bayan ul Quran
بنی اسرائیل کے بڑوں نے حضرت مسیحؑکو ماننے سے انکار کردیا۔ بڑوں کے ہاتھ میں ہر قسم کے وسائل ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ مذہب کی گدیوں پر قابض ہونے کی وجہ سے عوام کی نظر میں وہی مذہب کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ جس کو رد کردیں، وہ نہ صرف وسائل حیات سے محروم ہوجاتا ہے بلکہ حق کی خاطر سب کچھ کھونے کے بعد بھی لوگوں کی نظر میں بددین ہی بنا رہتا ہے۔ ایسے وقت میں داعیٔ حق کا ساتھ دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ یہ شبہات اور مخالفتوں کی عمومی فضا میں اس کی صداقت پر گواہ بننا ہے۔ یہ حق کی جانب اس وقت کھڑا ہونا ہے جب کہ حق تنہا رہ گیا ہو۔ حق جب اپنی بے آمیز صورت میں اٹھتا ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اوپر اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں جو اپنی خلافِ حق زندگی پر حق کا لیبل لگا کر لوگوں کے درمیان عزت کا مقام حاصل کيے ہوئے هوں۔ وہ داعی کو زیر کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکا ل کر عوام کو اس کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ اور بالآخر طاقت کے ذریعہ اس کو مٹادینے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ مگر اللہ کی نصرت ہمیشہ داعی کے ساتھ ہوتی ہے، اس لیے کوئی مخالفت اس کی آواز کو دبانے میںکامیاب نہیں ہوتی۔ مخالفتوں کے علی الرغم وہ اپنے مشن کو مکمل کرتا ہے — جو لوگ دعوت حق کے مخالف بنیں وہ اللہ کی نظر میںفساد كرنے والے ہیں۔ کیوں کہ وہ لوگوں کو جنت کی طرف جانے سے روکتے ہیں۔ اس سے بڑا کوئی فساد نہیں ہوسکتا کہ خدا کے بندوں کو خدائی جنت کی طرف جانےسے روکا جائے۔ حضرت مسیح یہودی قوم میں پیدا ہوئے مگر یہود نے آپ کی نبوت نہیں مانی۔ انھوںنے آنجناب کو ختم کرنے کے لیے آپ کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا اور آپ کو فلسطین کی رومی عدالت میں لے گئے۔ عدالت سے آپ کو سولی پرچڑھانے کا فیصلہ ہوگیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا اور رومی سپاہیوں نے ایک اور آدمی کو آپ کا ہم شکل پاکر اسے سولی دے دی۔ یہود کے اس جرم پر خدا نے یہ فیصلہ کردیا کہ حضرت مسیح کو ماننے والی قوم قیامت تک یہودی قوم پر غالب رہے گی۔ یہود اور مسیحی دونوں کے ساتھ يه خدا کا دنیوی معاملہ ہے۔ آخرت کا معاملہ اس کے علاوہ ہے ،جو خدا کی عام سنت کے تحت ہوگا۔