Recitation
Next: 31_33
Arabic
وَإِذَا غَشِيَهُم مَّوۡجٞ كَٱلظُّلَلِ دَعَوُاْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمۡ إِلَى ٱلۡبَرِّ فَمِنۡهُم مُّقۡتَصِدٞۚ وَمَا يَجۡحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا كُلُّ خَتَّارٖ كَفُورٖ
Urdu
اور جب (سمندر میں) اِن لوگوں پر ایک موج سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہے تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں اپنے دین کو بالکل اسی کے لیے خالص کر کے، پھر جب وہ بچا کر انہیں خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی اقتصاد برتتا ہے، اور ہماری نشانیوں کا انکار نہیں کرتا مگر ہر وہ شخص جو غدّار اور ناشکرا ہے
English
And when waves come over them like canopies, they supplicate Allah, sincere to Him in religion. But when He delivers them to the land, there are [some] of them who are moderate [in faith]. And none rejects Our signs except everyone treacherous and ungrateful
Tafsir — Bayan ul Quran
سمندر میں کوئی چیز ڈالی جائے تو وہ فوراً ڈوب جائے گی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے پانی کو ایک خاص قانون کا پابند بنا رکھا ہے۔ اس وجہ سے کشتی اور جہاز اتھاہ سمندروں میں نہیں ڈوبتے، وہ انسان کو اور اس کے سامان کو بحفاظت ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیتے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم نشانی ہے۔ مگر اس نشانی سے صرف صابر اور شاکر انسان سبق لیتے ہیں۔ صابر وہ ہے جو اپنے آپ کو غلط احساسات کے زیر اثر جانے سے روکے۔ اور شاکر وہ ہے جو اپنے باہر پائی جانے والی حقیقت کا اعتراف کرسکے۔ تاہم جب سمندر میں طوفان آتاہے تو آدمی کو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کس قدر بے بس ہے۔ اس وقت وہ ہر ایک کی بڑائی کو بھول کر صرف خدا کو پکارنے لگتاہے۔ یہ تجربہ جو کشتی کے مسافروں کو پیش آتاہے اس سے لوگوں کو سبق لینا چاہیے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو ان واقعات سے سبق لیں اور حق اور عدل کی راہ پر قائم رہیں۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ مصیبت میں پڑے تو خداکو یاد کرلیا اور مصیبت ہٹی تو دوبارہ سرکش اور احسان فراموش بن گئے۔