Recitation
Next: 31_34
Arabic
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡ وَٱخۡشَوۡاْ يَوۡمٗا لَّا يَجۡزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِۦ وَلَا مَوۡلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِۦ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ
Urdu
لوگو، بچو اپنے رب کے غضب سے اور ڈرو اُس دن سے جبکہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کی طرف سے کچھ بدلہ دینے والا ہوگا فی الواقع اللہ کا وعدہ سچا ہے پس یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکہ باز تم کو اللہ کے معاملے میں دھوکا دینے پائے
English
O mankind, fear your Lord and fear a Day when no father will avail his son, nor will a son avail his father at all. Indeed, the promise of Allah is truth, so let not the worldly life delude you and be not deceived about Allah by the Deceiver
Tafsir — Bayan ul Quran
موجودہ دنیا میںامتحان کی مصلحت سے لوگوں کو آزادی دی گئی ہے۔ اس امتحانی آزادی کو آدمی حقیقی آزادی سمجھ لیتاہے۔ یہی سب سے بڑا دھوکا ہے۔ تمام انسانی برائیاں اسی دھوکہ کی وجہ سے پیداہوتی ہیں۔ یہاں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان جو چاہے کرے کوئی اس کو پکڑنے والا نہیں۔ حالاں کہ آخر کار آدمی کے اوپر اتنا کٹھن وقت آنے والا ہے کہ باپ بیٹا بھی ایک دوسرے کا ساتھ دینے والے نہ بن سکیں گے۔ ’’قیامت آنے والی ہے تو وہ کب آئے گی‘‘ ایسا سوال کرنا اپنی حد سے تجاوز کرناہے۔ انسان اپنی قریبی اور معلوم دنیا کے بارے میں بھی کل کی خبر نہیں رکھتا۔ مثلاً بارش، پیٹ کا بچہ، معاشی مستقبل، موت، ان چیزوں کے بارے میں کوئی قطعی پیشین گوئی نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اس علمی محدودیت کے باوجود انسان ان حقیقتوں کے واقعہ ہونے کو مانتا ہے۔ اسی طرح قیامت کی گھڑی کے بارے میں بھی اس کو مجمل خبر کی بنیاد پر یقین کرنا چاہيے۔