Recitation

Next: 34_32


Arabic

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَن نُّؤۡمِنَ بِهَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ وَلَا بِٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِۗ وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّـٰلِمُونَ مَوۡقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمۡ يَرۡجِعُ بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٍ ٱلۡقَوۡلَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ لَوۡلَآ أَنتُمۡ لَكُنَّا مُؤۡمِنِينَ


Urdu

یہ کافر کہتے ہیں کہ “ہم ہرگز اِس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے” کاش تم دیکھو اِن کا حال اُس وقت جب یہ ظالم اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے اُس وقت یہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ “اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے


English

And those who disbelieve say, “We will never believe in this Qur’an nor in that before it.” But if you could see when the wrongdoers are made to stand before their Lord, refuting each other’s words… Those who were oppressed will say to those who were arrogant, “If not for you, we would have been believers


Tafsir — Bayan ul Quran

حقیقت کا انکار سب سے بڑا جرم ہے۔ دنیا میں اس جرم کا انجام سامنے نہیں آتا۔ اس ليے دنیا میں آدمی بے خوف ہو کر حقیقت کا انکار کردیتاہے۔ مگر آخرت میں جب انکار حق کا برا انجام لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا تو اس وقت لوگوں کا عجیب حال ہوگا۔ عوام اپنے جن بڑوں پر دنیا میں فخر کرتے تھے وہاں ان بڑوں کو اپنی گمراہی کا ذمہ دار ٹھہرا کر وہ ان پر لعنت کریں گے۔ بڑے ان کو جواب دیں گے کہ اپنے آپ کو شرمندگی سے بچانے کےلیے ہمیں ملزم نہ ٹھہراؤ ، یہ ہم نہ تھے بلکہ تمھاری اپنی خواہشیں تھیں جنھوںنے تم کو گمراہ کیا۔ ہمارا ساتھ تم نے صرف اس ليے دیا کہ ہماری بات تمھاری اپنی خواہشوں کے مطابق تھی۔ تم ایسا دین چاہتے تھے جس میں اپنے آپ کو بدلے بغیر دین دار بننے کا کریڈٹ حاصل ہوجائے اور وہ ہم نے تم کو فراہم کردیا۔ تم نے ہمارا پھندا خود اپنی گردن میں ڈالا، ورنہ ہمارے پاس کوئی طاقت نہ تھی کہ ہم اس کو تمھاری گردن میں ڈال دیتے۔


Connections

  • Previous: 34_30
  • Next: 34_32
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes