Recitation
Next: 34_33
Arabic
قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُوٓاْ أَنَحۡنُ صَدَدۡنَٰكُمۡ عَنِ ٱلۡهُدَىٰ بَعۡدَ إِذۡ جَآءَكُمۖ بَلۡ كُنتُم مُّجۡرِمِينَ
Urdu
وہ بڑے بننے والے ان دبے ہوئے لوگوں کو جواب دیں گے “کیا ہم نے تمہیں اُس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی؟ نہیں، بلکہ تم خود مجرم تھے
English
Those who were arrogant will say to those who were oppressed, “Did we avert you from guidance after it had come to you? Rather, you were criminals
Tafsir — Bayan ul Quran
حقیقت کا انکار سب سے بڑا جرم ہے۔ دنیا میں اس جرم کا انجام سامنے نہیں آتا۔ اس ليے دنیا میں آدمی بے خوف ہو کر حقیقت کا انکار کردیتاہے۔ مگر آخرت میں جب انکار حق کا برا انجام لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا تو اس وقت لوگوں کا عجیب حال ہوگا۔ عوام اپنے جن بڑوں پر دنیا میں فخر کرتے تھے وہاں ان بڑوں کو اپنی گمراہی کا ذمہ دار ٹھہرا کر وہ ان پر لعنت کریں گے۔ بڑے ان کو جواب دیں گے کہ اپنے آپ کو شرمندگی سے بچانے کےلیے ہمیں ملزم نہ ٹھہراؤ ، یہ ہم نہ تھے بلکہ تمھاری اپنی خواہشیں تھیں جنھوںنے تم کو گمراہ کیا۔ ہمارا ساتھ تم نے صرف اس ليے دیا کہ ہماری بات تمھاری اپنی خواہشوں کے مطابق تھی۔ تم ایسا دین چاہتے تھے جس میں اپنے آپ کو بدلے بغیر دین دار بننے کا کریڈٹ حاصل ہوجائے اور وہ ہم نے تم کو فراہم کردیا۔ تم نے ہمارا پھندا خود اپنی گردن میں ڈالا، ورنہ ہمارے پاس کوئی طاقت نہ تھی کہ ہم اس کو تمھاری گردن میں ڈال دیتے۔