Recitation
Next: 39_48
Arabic
وَلَوۡ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ مَا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا وَمِثۡلَهُۥ مَعَهُۥ لَٱفۡتَدَوۡاْ بِهِۦ مِن سُوٓءِ ٱلۡعَذَابِ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ وَبَدَا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مَا لَمۡ يَكُونُواْ يَحۡتَسِبُونَ
Urdu
اگر اِن ظالموں کے پاس زمین کی ساری دولت بھی ہو، اور اتنی ہی اور بھی، تو یہ روز قیامت کے برے عذاب سے بچنے کے لیے سب کچھ فدیے میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے وہاں اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا انہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے
English
And if those who did wrong had all that is in the earth entirely and the like of it with it, they would [attempt to] ransom themselves thereby from the worst of the punishment on the Day of Resurrection. And there will appear to them from Allah that which they had not taken into account
Tafsir — Bayan ul Quran
عرب کے مشرکین جن کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ خدا کے یہاں وہ ان کی شفاعت کرنے والے بن جائیں گے وہ حقیقۃً پتھر کے بت نہ تھے۔ یہ وہ بزرگ ہستیاں تھیں جن کی علامت کے طور پر انھوںنے پتھر کے بت بنا رکھے تھے۔ ان کے شفعاء دراصل ان کے قومی اکابر تھے جن کے متعلق ان کا عقیدہ تھا کہ ان کا دامن پکڑے رہو، وہ خدا کے یہاں تمھارے ليے کافی ہوجائیںگے۔ جو لوگ غیر اللہ کے بارے میں اس قسم کا عقیدہ بنائیں، دھیرے دھیرے ان کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ ان کی ساری عقیدتیں اور شیفتگیاں ان ہی غیر خدائی شخصیتوں کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہیں۔ ان شخصیتوں کی بڑائی کا چرچا کیا جائے تو اس کو سن کر وہ خوب خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ایک خدا کی بڑائی بیان کی جائے تو ان کی روح کو اس سے کوئی غذا نہیں ملتی۔ ایسے لوگوں کے سامنے خواہ کتنے ہی طاقت وردلائل کے ساتھ توحید خالص کو بیان کیا جائے وہ اس کو ماننے والے نہیں بنتے۔ ان کی آنکھ صرف اس وقت کھلتی ہے جب کہ قیامت کا پردہ پھاڑ کر خدا کا جلال بے نقاب ہوجائے۔ آج آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ اعتراف کے الفاظ دینے کےلیے بھی تیار نہیں ہوتا مگر جب وہ وقت آئے گا تو وہ چاہے گا کہ جو کچھ اس کے پاس ہے سب اس سے بچنے کےلیے فدیہ میں دے ڈالے۔ مگر وہاں آدمی کے اپنے اعمال کے سوا کوئی چیز نہ ہوگی جو اس کے کام آسکے۔