Recitation
Next: 39_49
Arabic
وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُواْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
Urdu
وہاں اپنی کمائی کے سارے برے نتائج ان پر کھل جائیں گے اور وہی چیز ان پر مسلط ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں
English
And there will appear to them the evils they had earned, and they will be enveloped by what they used to ridicule
Tafsir — Bayan ul Quran
عرب کے مشرکین جن کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ خدا کے یہاں وہ ان کی شفاعت کرنے والے بن جائیں گے وہ حقیقۃً پتھر کے بت نہ تھے۔ یہ وہ بزرگ ہستیاں تھیں جن کی علامت کے طور پر انھوںنے پتھر کے بت بنا رکھے تھے۔ ان کے شفعاء دراصل ان کے قومی اکابر تھے جن کے متعلق ان کا عقیدہ تھا کہ ان کا دامن پکڑے رہو، وہ خدا کے یہاں تمھارے ليے کافی ہوجائیںگے۔ جو لوگ غیر اللہ کے بارے میں اس قسم کا عقیدہ بنائیں، دھیرے دھیرے ان کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ ان کی ساری عقیدتیں اور شیفتگیاں ان ہی غیر خدائی شخصیتوں کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہیں۔ ان شخصیتوں کی بڑائی کا چرچا کیا جائے تو اس کو سن کر وہ خوب خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ایک خدا کی بڑائی بیان کی جائے تو ان کی روح کو اس سے کوئی غذا نہیں ملتی۔ ایسے لوگوں کے سامنے خواہ کتنے ہی طاقت وردلائل کے ساتھ توحید خالص کو بیان کیا جائے وہ اس کو ماننے والے نہیں بنتے۔ ان کی آنکھ صرف اس وقت کھلتی ہے جب کہ قیامت کا پردہ پھاڑ کر خدا کا جلال بے نقاب ہوجائے۔ آج آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ اعتراف کے الفاظ دینے کےلیے بھی تیار نہیں ہوتا مگر جب وہ وقت آئے گا تو وہ چاہے گا کہ جو کچھ اس کے پاس ہے سب اس سے بچنے کےلیے فدیہ میں دے ڈالے۔ مگر وہاں آدمی کے اپنے اعمال کے سوا کوئی چیز نہ ہوگی جو اس کے کام آسکے۔