Recitation
Next: 39_50
Arabic
فَإِذَا مَسَّ ٱلۡإِنسَٰنَ ضُرّٞ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلۡنَٰهُ نِعۡمَةٗ مِّنَّا قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَىٰ عِلۡمِۭۚ بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٞ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
Urdu
یہی انسان جب ذرا سی مصیبت اِسے چھو جاتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، اور جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دے کر اپھار دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے! نہیں، بلکہ یہ آزمائش ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
English
And when adversity touches man, he calls upon Us; then when We bestow on him a favor from Us, he says, “I have only been given it because of [my] knowledge.” Rather, it is a trial, but most of them do not know
Tafsir — Bayan ul Quran
دنیا میں آدمی کو جب کوئی چیز ملتی ہے تو وہ اس کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھ کر خوش ہوتاہے۔ حالاں کہ دنیا کی چیزیں آزمائش کا سامان ہیں، نہ کہ لیاقت کا انعام۔ اسی حقیقت کو جاننا سب سے بڑا علم ہے۔ دنیا کی چیزوں کو آدمی اگر اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھ لے تو اس سے اس کے اندر فخر اور گھمنڈ کی نفسیات ابھرے گی۔ اس کے برعکس، جب آدمی ان کو آزمائش کا سامان سمجھتاہے تو اس کے اندر شکر اور تواضع کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ رزقِ دنیا کی کمی یا زیادتی تمام تر انسانی اختیار سے باہر کی چیز ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے باہر کوئی قوت ہے جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کس کو زیادہ ملے اور کس کو کم دیا جائے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ رزق کا فیصلہ شخصی لیاقت کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ اس کا فیصلہ کسی اور بنیاد پر ہوتا ہے۔ وہ بنیاد یہی ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، نہ کہ انعام کی جگہ۔ اس ليے یہاں کسی کو جو کچھ ملتاہے وہ اس کے امتحان کا پرچہ ہوتا ہے۔ امتحان لینے والا اپنے فیصلہ کے تحت کسی کو کوئی پرچہ دیتاہے اور کسی کو کوئی پرچہ۔ کسی کو ایک قسم کے حالات میں آزماتا ہے اور کسی کو دوسرے قسم کے حالات میں۔