Recitation
Next: 4_158
Arabic
وَقَوۡلِهِمۡ إِنَّا قَتَلۡنَا ٱلۡمَسِيحَ عِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ رَسُولَ ٱللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمۡۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُۚ مَا لَهُم بِهِۦ مِنۡ عِلۡمٍ إِلَّا ٱتِّبَاعَ ٱلظَّنِّۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَۢا
Urdu
اور خود کہا کہ ہم نے مسیح، عیسیٰ ابن مریم، رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے حالانکہ فی الواقع انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ صلیب پر چڑھایا بلکہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ کر دیا گیا اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں، ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے، محض گمان ہی کی پیروی ہے انہوں نے مسیح کو یقین کے ساتھ قتل نہیں کیا
English
And [for] their saying, “Indeed, we have killed the Messiah, Jesus, the son of Mary, the messenger of Allah.” And they did not kill him, nor did they crucify him; but [another] was made to resemble him to them. And indeed, those who differ over it are in doubt about it. They have no knowledge of it except the following of assumption. And they did not kill him, for certain
Tafsir — Bayan ul Quran
یہودپر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیاالبتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ یہود ہر قسم کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔ اس کے باوجود اپنے نجات یافتہ ہونے کے بارے میں ان کا یقین اتنا بڑھا ہوا تھا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کو نئے نبی کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ وہ بطور طنز کہتے —’’ہمارے دل تو بند ہیں‘‘۔ ان کا یہ جملہ رسول کو ماننے کے بارے میں اپنی عدم صلاحیت کا اظہار نہ تھا بلکہ اس اطمینان کا اظہار تھا کہ وہ رسول کے ساتھ خواہ جو بھی سلوک کریں ان کی نجات کسی حال میں مشتبہ ہونے والی نہیں۔ جو لوگ اس قسم کے جھوٹے یقین میں مبتلا ہوں وہ ہر قسم کے جرم پر جری ہوجاتے ہیں۔ خدا پر ایمان ان کو جس عہد خداوندی میں باندھتا ہے اس کو توڑنا ان کے لیے کچھ مشکل نہیں ہوتا۔اللہ کی طرف سے ظاہر ہونے والے کھلے دلائل کے باوجود وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حق کی طرف بلانے والے جو ان کی غیر خدا پرستانہ روش کو بے نقاب کرتے ہیں ان کے خلاف جارحانہ اقدام کرنے سے وہ نہیں جھجھكتے۔ حتی کہ جھوٹی تہمت لگا کر داعی کو بے عزت کرنے سے بھی انھیں کوئی چیز نہیں روکتی۔ یہود نے حضرت مسیح کے خلاف قتل کا اقدام کیا اور اس کے بعد فخریہ کہا کہ ’’مریم کا بیٹا مسیح جو اپنے کو رسول کہتا تھا اس کو ہم نے مارڈالا‘‘۔ مگر اس قسم کے لوگ اللہ کے داعیوں کے خلاف جو بھی سازش کریں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اللہ کی طاقت اور اس کا حکیمانہ نظام ہمیشہ حق کے داعیوں کی پشت پر ہوتا ہے۔ ہر سازش اور مخالفت کے باوجود وہ اس وقت تک اپنا کام جاری رکھنے کی توفیق پاتے ہیں جب کہ وہ اپنے حصہ کا کام مکمل کرلیں۔ جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کریں اللہ ان سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت چھین ليتا ہے۔ وہ اپنی مخالفانہ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیںیہاں تک کہ خدا کے فرشتے ان کو مجرم کی حیثیت سے پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کردیتے ہیں۔