Recitation
Next: 41_45
Arabic
وَلَوۡ جَعَلۡنَٰهُ قُرۡءَانًا أَعۡجَمِيّٗا لَّقَالُواْ لَوۡلَا فُصِّلَتۡ ءَايَٰتُهُۥٓۖ ءَا۬عۡجَمِيّٞ وَعَرَبِيّٞۗ قُلۡ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدٗى وَشِفَآءٞۚ وَٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ فِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٞ وَهُوَ عَلَيۡهِمۡ عَمًىۚ أُوْلَـٰٓئِكَ يُنَادَوۡنَ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٖ
Urdu
اگر ہم اِس کو عجمی قرآن بنا کر بھیجتے تو یہ لوگ کہتے “کیوں نہ اس کی آیات کھول کر بیان کی گئیں؟ کیا عجیب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطب عربی” اِن سے کہو یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لیے تو ہدایت اور شفا ہے، مگر جو لوگ ایمان نہیں لاتے اُن کے لیے یہ کانوں کی ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے اُن کا حال تو ایسا ہے جیسے اُن کو دور سے پکارا جا رہا ہو
English
And if We had made it a non-Arabic Qur’an, they would have said, “Why are its verses not explained in detail [in our language]? Is it a foreign [recitation] and an Arab [messenger]?” Say, “It is, for those who believe, a guidance and cure.” And those who do not believe - in their ears is deafness, and it is upon them blindness. Those are being called from a distant place
Tafsir — Bayan ul Quran
قرآن عربي زبان ميں اتراتو مخالفين نےكها يه تو محمد كي اپني مادري زبان هے، عربي ميں كوئي كتاب بنا كر پيش كردينا ان كے ليے كيا مشكل هے۔ اگر وه واقعي پيغمبر هوتے تو خدا كي مدد سے وه اچانك كسي اجنبي زبان ميں كلام كرنے لگتے۔ اس طرح كي بات هميشه غير سنجيده لوگ كرتے هيں۔ اور جو لوگ غير سنجيده هوں ان كي زبان كبھي بند نهيں كي جاسكتي۔ مثلاً اگر ايسا هو كه پيغمبر آكر عرب كے لوگوں سے يوناني يا سُرياني يا فارسي زبان ميں كلام كرنے لگے تو اس وقت لوگوں كو كهنے کے ليے يه الفاظ مل جائيں گے— كيسا عجيب هے يه پيغمبر۔ اس كا كهنا هے كه وه لوگوں كي هدايت كے ليے آيا هے۔ مگر وه ايسي زبان ميں بولتا هے جس كو اس كے مخاطبين سمجھ هي نه سكتے هوں۔ حقيقت يه هے كه حق كو صرف وه لوگ قبول كرپاتے هيں جو حق كے معامله ميں سنجيده هوں۔ جو لوگ حق كے معامله ميں سنجيده نه هوں وه واضح ترين بات كو بھي سمجھ نهيں سكتے۔ ان كي مثال ايسي هي هے جيسے كسي كو بهت دور سے پكار اجائے۔ ايسا شخص كچھ آواز تو سنے گا مگر وه اصل بات كو سمجھنے سے محروم رهے گا۔