Recitation
Next: 41_46
Arabic
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ فَٱخۡتُلِفَ فِيهِۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۚ وَإِنَّهُمۡ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُ مُرِيبٖ
Urdu
اِس سے پہلے ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی تھی اور اس کے معاملے میں بھی یہی اختلاف ہوا تھا اگر تیرے رب نے پہلے ہی ایک بات طے نہ کر دی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ چکا دیا جاتا اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اُس کی طرف سے سخت اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں
English
And We had already given Moses the Scripture, but it came under disagreement. And if not for a word that preceded from your Lord, it would have been concluded between them. And indeed they are, concerning the Qur’an, in disquieting doubt
Tafsir — Bayan ul Quran
پچھلے پيغمبروں كے ذريعه جب خدائي سچائي منكشف كي گئي تو كچھ لوگوں نے اس کو مانا اور کچھ لوگوں نے نهيں مانا۔ يهي معامله اس وقت بھي پيش آيا جب كه پيغمبر آخر الزماں كي بعثت هوئي۔ خدائي سچائي كے ساتھ يه اختلافي معامله انسان كيوں كرتا هے۔ اس كي وجه موجوده امتحاني حالت هے۔ موجوده امتحان كي دنيا ميں سچائي جب بھي ظاهر هوتي هے تو اس كے ساتھ ايك پرده بھي لگا رهتا هے۔ لوگ اسي پرده ميں اٹك كر ره جاتے هيں۔ جس پرده كو انھيں پھاڑناتھا اس كو وه اپنے ليے شك و شبه كا سبب بنا ليتے هيں۔ مگر يه شك قيامت ميں كسي كے لیے عذر نهيں بن سكتا۔ كيونكه يه صرف اس بات كا ثبوت هے كه انسان حق كے معامله ميں سنجيده نهيں تھا۔ انسان اپنے دنيا كے مفاد كے معامله ميں پوري طرح سنجيده هوتا هے۔ اس ليے وه تمام پردوں كو پھاڑ كر اس كي حقيقت تك پهنچ جاتا هے۔ اسي طرح اگر وه اپنے آخرت كے مفاد كے بارے ميں سنجيده هوجائے تو وه شك كے تمام پردوں كو پھاڑ كر حقيقت كو اس كي بے نقاب صورت ميں ديكھ لے۔