Recitation
Next: 48_13
Arabic
بَلۡ ظَنَنتُمۡ أَن لَّن يَنقَلِبَ ٱلرَّسُولُ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ إِلَىٰٓ أَهۡلِيهِمۡ أَبَدٗا وَزُيِّنَ ذَٰلِكَ فِي قُلُوبِكُمۡ وَظَنَنتُمۡ ظَنَّ ٱلسَّوۡءِ وَكُنتُمۡ قَوۡمَۢا بُورٗا
Urdu
(مگر اصل بات وہ نہیں ہے جو تم کہہ رہے ہو) بلکہ تم نے یوں سمجھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھر والوں میں ہرگز پلٹ کر نہ آ سکیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوں کو بہت بھلا لگا اور تم نے بہت برے گمان کیے اور تم سخت بد باطن لوگ ہو
English
But you thought that the Messenger and the believers would never return to their families, ever, and that was made pleasing in your hearts. And you assumed an assumption of evil and became a people ruined
Tafsir — Bayan ul Quran
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔ اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔ ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔