Recitation
Next: 48_14
Arabic
وَمَن لَّمۡ يُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ فَإِنَّآ أَعۡتَدۡنَا لِلۡكَٰفِرِينَ سَعِيرٗا
Urdu
اللہ اور اس کے رسول پر جو لوگ ایمان نہ رکھتے ہوں ایسے کافروں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے
English
And whoever has not believed in Allah and His Messenger - then indeed, We have prepared for the disbelievers a Blaze
Tafsir — Bayan ul Quran
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔ اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔ ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔