Recitation

Next: 5_102


Arabic

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَسۡـَٔلُواْ عَنۡ أَشۡيَآءَ إِن تُبۡدَ لَكُمۡ تَسُؤۡكُمۡ وَإِن تَسۡـَٔلُواْ عَنۡهَا حِينَ يُنَزَّلُ ٱلۡقُرۡءَانُ تُبۡدَ لَكُمۡ عَفَا ٱللَّهُ عَنۡهَاۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٞ


Urdu

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں، لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی اب تک جو کچھ تم نے کیا اُسے اللہ نے معاف کر دیا، وہ درگزر کرنے والا اور برد بار ہے


English

O you who have believed, do not ask about things which, if they are shown to you, will distress you. But if you ask about them while the Qur’an is being revealed, they will be shown to you. Allah has pardoned that which is past; and Allah is Forgiving and Forbearing


Tafsir — Bayan ul Quran

روایات میںآتا ہے کہ جب حج کا حکم آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے لوگو تم پر حج فرض کیاگیا ہے۔ یہ سن کر قبیلہ بنی اسد کا ایک شخص اٹھا اور کہا اے خدا کے رسول کیا ہر سال کے لیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر سخت غضب ناک ہوئے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر میں کہہ دیتا ہاں تو ہر سال کے لیے فرض ہوجاتا اور جب فرض ہوجاتا تو تم لوگ ہر سال اس کو کر نہ پاتے اور پھر کفر کا ارتکاب کرتے۔ پس جو میں چھوڑوں اس کو تم بھی چھوڑدو۔ جب میں کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو کرو اور جب میں کسی چیز سے روکوں تو اس سے رک جاؤ (سنن الترمذي،حديث نمبر 814 ) غیر ضروری سوالات میں پڑنے کی ممانعت جو نزول قرآن کے وقت تھی وہی آج بھی مطلوب ہے۔ آج بھی صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو حکم جس طرح دیاگیا ہے اس کو اسی طرح رہنے دیاجائے۔ غیر ضروری سوالات قائم کرکے اس کی حدود قیود کو بڑھانے کی کوشش نہ کی جائے۔ جو حکم مجمل صورت میں ہے اس کو مفصل بنانا، جو مطلق ہے اس کو مقید کرنا اور جو چیز غیر معین ہے اس کو معین کرنے کے درپے ہونا دین میں ایسا اضافہ ہے جس سے اللہ اور رسول نے منع فرمایا ہے۔ کسی قوم کے جو گزرے ہوئے بزرگ ہوتے ہیں، زمانہ گزرنے کے بعد وہ مقدس حیثیت حاصل کرلیتے ہیں۔ اکثر گمراہیاں انھیں گزرے ہوئے لوگوں کے نام پر ہوتی ہیں۔ حتی کہ اگر وہ بکری اور اونٹ کی تعظیم کا رواج قائم کر گئے ہوں تو اس کو بھی بعد کے لوگ سوچے سمجھے بغیر دہراتے رہتے ہیں۔ جس بگاڑ کی روایت ماضی کے تقدس پر قائم ہوں اس کی جڑیں اتني گہری جمی ہوئی ہوتی ہیں کہ اس سے لوگوں کو ہٹانا سخت دشوار ہوتا ہے۔ اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگیوں سے اوپر اٹھنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی کے اندر واقعی معنوں میں یہ یقین پیدا ہوجائے کہ بالآخر اس کو خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ ایسا شخص آج ہی اس حقیقت کو مان لیتا ہے جس کو موت کے بعد ہر آدمی ماننے پر مجبور ہوگا مگر اس وقت کا ماننا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔


Connections

  • Previous: 5_100
  • Next: 5_102
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes