Recitation
Next: 5_103
Arabic
قَدۡ سَأَلَهَا قَوۡمٞ مِّن قَبۡلِكُمۡ ثُمَّ أَصۡبَحُواْ بِهَا كَٰفِرِينَ
Urdu
تم سے پہلے ایک گروہ نے اِسی قسم کے سوالات کیے تھے، پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے
English
A people asked such [questions] before you; then they became thereby disbelievers
Tafsir — Bayan ul Quran
روایات میںآتا ہے کہ جب حج کا حکم آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے لوگو تم پر حج فرض کیاگیا ہے۔ یہ سن کر قبیلہ بنی اسد کا ایک شخص اٹھا اور کہا اے خدا کے رسول کیا ہر سال کے لیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر سخت غضب ناک ہوئے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر میں کہہ دیتا ہاں تو ہر سال کے لیے فرض ہوجاتا اور جب فرض ہوجاتا تو تم لوگ ہر سال اس کو کر نہ پاتے اور پھر کفر کا ارتکاب کرتے۔ پس جو میں چھوڑوں اس کو تم بھی چھوڑدو۔ جب میں کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو کرو اور جب میں کسی چیز سے روکوں تو اس سے رک جاؤ (سنن الترمذي،حديث نمبر 814 ) غیر ضروری سوالات میں پڑنے کی ممانعت جو نزول قرآن کے وقت تھی وہی آج بھی مطلوب ہے۔ آج بھی صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو حکم جس طرح دیاگیا ہے اس کو اسی طرح رہنے دیاجائے۔ غیر ضروری سوالات قائم کرکے اس کی حدود قیود کو بڑھانے کی کوشش نہ کی جائے۔ جو حکم مجمل صورت میں ہے اس کو مفصل بنانا، جو مطلق ہے اس کو مقید کرنا اور جو چیز غیر معین ہے اس کو معین کرنے کے درپے ہونا دین میں ایسا اضافہ ہے جس سے اللہ اور رسول نے منع فرمایا ہے۔ کسی قوم کے جو گزرے ہوئے بزرگ ہوتے ہیں، زمانہ گزرنے کے بعد وہ مقدس حیثیت حاصل کرلیتے ہیں۔ اکثر گمراہیاں انھیں گزرے ہوئے لوگوں کے نام پر ہوتی ہیں۔ حتی کہ اگر وہ بکری اور اونٹ کی تعظیم کا رواج قائم کر گئے ہوں تو اس کو بھی بعد کے لوگ سوچے سمجھے بغیر دہراتے رہتے ہیں۔ جس بگاڑ کی روایت ماضی کے تقدس پر قائم ہوں اس کی جڑیں اتني گہری جمی ہوئی ہوتی ہیں کہ اس سے لوگوں کو ہٹانا سخت دشوار ہوتا ہے۔ اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگیوں سے اوپر اٹھنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی کے اندر واقعی معنوں میں یہ یقین پیدا ہوجائے کہ بالآخر اس کو خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ ایسا شخص آج ہی اس حقیقت کو مان لیتا ہے جس کو موت کے بعد ہر آدمی ماننے پر مجبور ہوگا مگر اس وقت کا ماننا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔