Recitation

Next: 5_117


Arabic

وَإِذۡ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ ءَأَنتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ ٱتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَٰهَيۡنِ مِن دُونِ ٱللَّهِۖ قَالَ سُبۡحَٰنَكَ مَا يَكُونُ لِيٓ أَنۡ أَقُولَ مَا لَيۡسَ لِي بِحَقٍّۚ إِن كُنتُ قُلۡتُهُۥ فَقَدۡ عَلِمۡتَهُۥۚ تَعۡلَمُ مَا فِي نَفۡسِي وَلَآ أَعۡلَمُ مَا فِي نَفۡسِكَۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّـٰمُ ٱلۡغُيُوبِ


Urdu

غرض جب (یہ احسانات یاد دلا کر) اللہ فرمائے گا کہ “اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی خدا بنا لو؟” تو وہ جواب میں عرض کرے گا کہ “سبحان اللہ! میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی، تو آپ کو ضرور علم ہوتا، آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے، آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالم ہیں


English

And [beware the Day] when Allah will say, “O Jesus, Son of Mary, did you say to the people, ‘Take me and my mother as deities besides Allah?’” He will say, “Exalted are You! It was not for me to say that to which I have no right. If I had said it, You would have known it. You know what is within myself, and I do not know what is within Yourself. Indeed, it is You who is Knower of the unseen


Tafsir — Bayan ul Quran

قیامت جب آئے گی تو حقیقتیں اس طرح کھل جائیں گی کہ آدمی بغیر بتائے ہوئے یہ جان لے گا کہ سچ کیا ہے اور غلط کیا۔ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے کہ ساری طاقتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں۔ خالق اور مالک، معبود اور مطلوب ہونے میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ اس کے سوا کسی کو نہ کوئی طاقت حاصل ہے اور نہ اس کے سوا کوئی اس قابل ہے کہ اس کی عبادت واطاعت کی جائے۔ ایسی حالت میں جب خدا اپنے پیغمبروں سے پوچھے گا کہ میںنے تم کو کیا پیغام دے کر دنیا میں بھیجا تھا تو یہ ایک ایسی بات کا پوچھنا ہوگا جو پہلے ہی لوگوں کے لیے معلوم شدہ بن چکی ہو گی۔ اس سوال کا جواب اس وقت اتنا کھلا ہوا ہوگا کہ کسی کے بولے بغیر قیامت کا پورا ماحول اس کا جواب پکار رہا ہوگا۔ یہ سوال وجواب محض لوگوں کی رسوائی میںاضافہ کرنے کے لیے ہوگا۔ وہ اس لیے ہوگا کہ پیغمبروں کے سامنے کھڑاکرکے لوگوں پر واضح کیا جائے کہ پیغمبروں کے نام پر جو دین تم نے بنا رکھا تھا وہ ان کی حقیقی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا۔ یہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو آزادی ہے۔ یہاں آدمی خدا اور رسول کی طرف ایسا دین منسوب کرکے بھی پھل پھول سکتا ہے جس کا خدا ورسول سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہاں فرضی امیدوں اور جھوٹی آرزوؤں پر بھی جنت کو اپنا حق ثابت کیا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی اپنی قیادت کے ہنگامے کھڑے کرے اور یہ ثابت کرے کہ جو کچھ وہ کررہا ہے وہی عین خدا کا دین ہے۔ مگر قیامت میں اس قسم کی کوئی چیز کام آنے والی نہیں۔ قیامت میں جو چیز کام آئے گی وہ صرف یہ کہ آدمی خدا کی نظر میں سچا ثابت ہو۔ آسمانی کتاب کی حامل قوموں کا امتحان یہ نہیں ہے کہ وہ ایمان کی دعوے دار بنتی ہیں یا نہیں۔ ان کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے دعوائے ایمان کو سچا ثابت کرتی ہیں یا نہیں۔


Connections

  • Previous: 5_115
  • Next: 5_117
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes