Recitation
Next: 5_76
Arabic
مَّا ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ مَرۡيَمَ إِلَّا رَسُولٞ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِ ٱلرُّسُلُ وَأُمُّهُۥ صِدِّيقَةٞۖ كَانَا يَأۡكُلَانِ ٱلطَّعَامَۗ ٱنظُرۡ كَيۡفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ ثُمَّ ٱنظُرۡ أَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ
Urdu
مسیح ابن مریمؑ اِس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا، اُس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے، اس کی ماں ایک راستباز عورت تھی، اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے، دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں، پھر دیکھو یہ کدھر الٹے پھر ے جاتے ہیں
English
The Messiah, son of Mary, was not but a messenger; [other] messengers have passed on before him. And his mother was a supporter of truth. They both used to eat food. Look how We make clear to them the signs; then look how they are deluded
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی معجزے ديے۔ یہ معجزے اس لیے تھے کہ لوگ آپ کے پیغمبر ہونے کو پہچانیں اور آپ پر ایمان لائیں۔ مگر معاملہ برعکس ہوا۔ عیسائیوں نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر یہ عقیدہ قائم کیا کہ آپ خدا ہیں۔ آپ کے اندر خدا حلول كيے ہوئے ہے۔ یہود نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کردیا کہ یہ ایک شعبدہ باز اور جادو گر ہیں۔ حضرت مسیح اللہ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لیے آئے تھے۔ مگر ایک گروہ نے آپ سے شرک کی غذا لی اور دوسرے گروہ نے انکار کی۔ معبود وہی ہوسکتا ہے جو خود بے احتیاج ہو اور دوسرے کو نفع نقصان پہنچانے کی قدرت رکھے۔ کھانا آدمی کے محتاج ہونے کی آخری علامت ہے۔ جو کھانے کا محتاج ہے وہ ہر چیز کا محتاج ہے۔ جو شخص کھانا کھاتا ہو وہ مکمل طورپر ایک محتاج ہستی ہے۔ ایسی ہستی خدا کس طرح ہو سکتی ہے۔ یہی معاملہ نفع نقصان کا ہے۔ کسی کو نفع ملنا یا کسی کو نقصان پہنچنا ایسے واقعات ہیں جن کے ظہور میںآنے کے لیے پوری کائنات کی مساعدت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص اس قسم کے کائناتی اسباب فراہم کرنے پر قادر نہیں۔ اس لیے انسانوں میں سے کسی انسان کا یہ درجہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اس کو معبود فرض کرلیا جائے۔ جب بھی آدمی خدا کے سوا کسی اور کو اپنی عقیدت ومحبت کا مرکز بناتا ہے تو اس کے پیچھے یہ چھپا ہوا جذبہ ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی دنیا میں کوئی بڑا درجہ حاصل ہے۔ وہ خدا کے یہاں اس کا مددگار بن سکتا ہے۔ مگر اس قسم کی تمام امیدیں محض جھوٹی امیدیں ہیں۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں خدا کے سوا دوسری چیزوں کا بے بس ہونا کھلا ہوا نہیں ہے۔ اس لیے یہاں آدمی غلط فہمی میں پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں جب تمام حقائق کھول ديے جائیں گے تو آدمی دیکھے گا کہ خدا کے سوا جن سہاروں پر وہ بھروسہ كيے ہوئے تھا وہ کس قدر بے قیمت تھے۔