Recitation

Next: 65_12


Arabic

رَّسُولٗا يَتۡلُواْ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ مُبَيِّنَٰتٖ لِّيُخۡرِجَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِۚ وَمَن يُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ وَيَعۡمَلۡ صَٰلِحٗا يُدۡخِلۡهُ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ قَدۡ أَحۡسَنَ ٱللَّهُ لَهُۥ رِزۡقًا


Urdu

ایک ایسا رسو ل جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سناتا ہے تاکہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اللہ اُسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی یہ لوگ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ نے ایسے شخص کے لیے بہترین رزق رکھا ہے


English

[He sent] a Messenger [Muhammad] reciting to you the distinct verses of Allah that He may bring out those who believe and do righteous deeds from darknesses into the light. And whoever believes in Allah and does righteousness - He will admit him into gardens beneath which rivers flow to abide therein forever. Allah will have perfected for him a provision


Tafsir — Bayan ul Quran

وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ سے مراد اگر سات زمینیں ہیں تو علم الافلاک (Astronomy)ابھی تک اس تعداد کو دریافت نہیں کرسکا ہے۔ انسانی معلومات کے مطابق، تادم تحریر، موجودہ زمین ساری کائنات میں ایک استثناء ہے۔ اس لیے یہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس آیت کا واقعی مطلب کیا ہے۔ ’’تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘—اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ ’’علم‘‘ ہے، یعنی ذات خداوندی کا شعور۔ کائنات کا عظیم کارخانہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اس کے ذریعہ خالق کو پہچانے وہ اس کے ذریعہ خدا کی بے پایاں قدرت کی معرفت حاصل کرے ۔


Connections

  • Previous: 65_10
  • Next: 65_12
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes