Recitation

Next: (End of Surah)


Arabic

ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ سَبۡعَ سَمَٰوَٰتٖ وَمِنَ ٱلۡأَرۡضِ مِثۡلَهُنَّۖ يَتَنَزَّلُ ٱلۡأَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ لِتَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ وَأَنَّ ٱللَّهَ قَدۡ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عِلۡمَۢا


Urdu

اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھی اُنہی کے مانند ان کے درمیان حکم نازل ہوتا رہتا ہے (یہ بات تمہیں اس لیے بتائی جا رہی ہے) تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، اور یہ کہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے


English

It is Allah who has created seven heavens and of the earth, the like of them. [His] command descends among them so you may know that Allah is over all things competent and that Allah has encompassed all things in knowledge


Tafsir — Bayan ul Quran

وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ سے مراد اگر سات زمینیں ہیں تو علم الافلاک (Astronomy)ابھی تک اس تعداد کو دریافت نہیں کرسکا ہے۔ انسانی معلومات کے مطابق، تادم تحریر، موجودہ زمین ساری کائنات میں ایک استثناء ہے۔ اس لیے یہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس آیت کا واقعی مطلب کیا ہے۔ ’’تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘—اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ ’’علم‘‘ ہے، یعنی ذات خداوندی کا شعور۔ کائنات کا عظیم کارخانہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اس کے ذریعہ خالق کو پہچانے وہ اس کے ذریعہ خدا کی بے پایاں قدرت کی معرفت حاصل کرے ۔


Connections

  • Previous: 65_11
  • Next: (End of Surah)
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes