Recitation

Next: 9_31


Arabic

وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ عُزَيۡرٌ ٱبۡنُ ٱللَّهِ وَقَالَتِ ٱلنَّصَٰرَى ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ ٱللَّهِۖ ذَٰلِكَ قَوۡلُهُم بِأَفۡوَٰهِهِمۡۖ يُضَٰهِـُٔونَ قَوۡلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبۡلُۚ قَٰتَلَهُمُ ٱللَّهُۖ أَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ


Urdu

یہودی کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے، اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ بے حقیقت باتیں ہیں جو وہ اپنی زبانوں سے نکالتے ہیں اُن لوگوں کی دیکھا دیکھی جو ان سے پہلے کفر میں مبتلا ہوئے تھے خدا کی مار اِن پر، یہ کہاں سے دھوکہ کھار ہے ہیں


English

The Jews say, “Ezra is the son of Allah ”; and the Christians say, “The Messiah is the son of Allah.” That is their statement from their mouths; they imitate the saying of those who disbelieved [before them]. May Allah destroy them; how are they deluded


Tafsir — Bayan ul Quran

ایمان زندہ ہو تو آدمی ہر واقعہ کو خدا کی طرف منسوب كرتا هے۔ وه كسي چيز كو صرف اس وقت سمجھ پاتا هے جب كه خدا كي نسبت سے اس کے بارے میں رائے قائم کرلے۔ وہ پھول کی خوشبو کو اس وقت سمجھتا ہے جب کہ اس میں اسے خدا کی مہک مل جائے۔ وہ سورج کو اس وقت دریافت کرتاہے جب کہ وہ اس کے معطی کو معلوم کرلے۔ ہر بڑائی اس کو خدا کا عطیہ نظر آتی ہے۔ ہر خوبی اس کو خدا کا احسان یاد دلاتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر خدا سے آدمی کا تعلق گھٹ کر صرف موہوم عقیدہ کے درجہ پر آجائے تو خدا اس کے زندہ شعور کے ليے ایک لامعلوم چیز بن جائے گا۔ وہ دنیا کی نظر آنے والی چیزوں پر خدا کو قیاس کرنے لگے گا۔ دوسری قسم کے لوگ طبعی طورپر خالق کو ان دنیوی چیزوں کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں جن کو وہ جانتے ہیں ۔ وہ خالق کو مخلوق کی سطح پر اتارلاتے ہیں ۔ یہی حال یہود ونصاریٰ کا اپنے بگاڑ کے زمانے میں ہوا۔ اب خدا ان کے یہاں موہوم معتقدات کے خانہ میں چلا گیا۔ چنانچہ وہ اپنے نظر آنے والے اکابر اور بزرگوں کو وہ درجہ دینے لگے جو درجہ خدائے عالم الغیب کو دینا چاہیے۔ انھوں نے دیکھا کہ یونانی اور رومی قومیں سورج کو خدا بنا کر اس کے ليے بیٹا فرض كيے ہوئے ہیں تو ان کو بھی اپنے بزرگوں کے لیے یہی سب سے اونچا لفظ نظر آیا۔ انھوں نے اپنی آسمانی کتابوں میں ، اب اور ابن کے الفاظ کی خودساختہ تشریح کرکے خدا کو باپ اور اپنے پیغمبر کو اس کا بیٹا کہنا شروع کردیا۔ حالاں کہ خدا صرف ایک ہی ہے، وہ ہر مشابہت سے پاک ہے، وہی تنہا اس کا مستحق ہے کہ اس کو بڑا بنایا جائے اور اس کی عبادت کی جائے۔ رسول اللہ کے خلاف جارحیت کرنے والے مشرکین (بنو اسماعیل) بھی تھے اور اہلِ کتاب (بنو اسرائیل) بھی۔ مگر دونوں کے ساتھ الگ الگ معاملہ کیاگیا۔ مشرکین کے ساتھ جنگ یا اسلام کا اصول اختیار کیاگیا۔ مگر اہلِ کتاب کے لیے حکم ہوا کہ اگر وہ جزیہ (سیاسی اطاعت) پر راضی ہوجائیں تو انھیں چھوڑ دو۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصلاً مخاطب تھے اور اہلِ کتاب تبعاً۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ جس قوم پر پیغمبر کے ذریعہ براہِ راست دعوت پہنچائی جاتی ہے اس سے اتمام حجت کے بعد زندگی کا حق چھین لیا جاتا ہے۔ ٹھيك ويسے هي جيسے كسي رياست ميں ايك شخص كے باغي ثابت هونے كے بعد اس سے زندگي كاحق چھين ليا جاتا هے۔ مگر جہاں تک دوسرے گروہوں کا تعلق ہے ان کے ساتھ وہی سیاسی معاملہ کیا جاتا ہے جو عام بین اقوامی اصول کے مطابق درست ہو۔


Connections

  • Previous: 9_29
  • Next: 9_31
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes