Recitation
Next: 18_19
Arabic
وَتَحۡسَبُهُمۡ أَيۡقَاظٗا وَهُمۡ رُقُودٞۚ وَنُقَلِّبُهُمۡ ذَاتَ ٱلۡيَمِينِ وَذَاتَ ٱلشِّمَالِۖ وَكَلۡبُهُم بَٰسِطٞ ذِرَاعَيۡهِ بِٱلۡوَصِيدِۚ لَوِ ٱطَّلَعۡتَ عَلَيۡهِمۡ لَوَلَّيۡتَ مِنۡهُمۡ فِرَارٗا وَلَمُلِئۡتَ مِنۡهُمۡ رُعۡبٗا
Urdu
تم انہیں دیکھ کر یہ سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سو رہے تھے ہم انہیں دائیں بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے اور ان کا کتا غار کے دہانے پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا اگر تم کہیں جھانک کر اُنہیں دیکھتے تو الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر ان کے نظارے سے دہشت بیٹھ جاتی
English
And you would think them awake, while they were asleep. And We turned them to the right and to the left, while their dog stretched his forelegs at the entrance. If you had looked at them, you would have turned from them in flight and been filled by them with terror
Tafsir — Bayan ul Quran
اللہ تعالیٰ نے ایک طرف یہ کیا کہ اصحابِ کہف پر مسلسل نیند طاری کردی۔ اسی کے ساتھ ان کی حفاظت کے مختلف انتظامات فرما دیے۔ مثلاً وہ برابر کروٹیں لیتے رہتے تھے۔ کیوں کہ حضرت ابن عباس کے الفاظ میں، اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کا جسم زمین کھا جاتی(لَوْ أَنَّهُمْ لَا يُقَلَّبُونَ لَأَكَلَتْهُمُ الْأَرْضُ)تفسیر الطبری، جلد 15 ، صفحہ 191 ۔ ان کے غار کے دہانہ پر ایک کتا مسلسل بیٹھا رہا۔ یہ غالباً اس لیے تھا کہ کوئی انسان یا جانور اندر داخل نہ ہوسکے۔ مزید یہ کہ غار کے اندر خدا نے ایسا پُرہیبت ماحول بنا دیا تھا کہ کوئی شخص اگر جھانکنے کی کوشش کرے تو پہلی ہی نظر میں دہشت زدہ ہو کر بھاگ جائے۔