Recitation
Next: 18_20
Arabic
وَكَذَٰلِكَ بَعَثۡنَٰهُمۡ لِيَتَسَآءَلُواْ بَيۡنَهُمۡۚ قَالَ قَآئِلٞ مِّنۡهُمۡ كَمۡ لَبِثۡتُمۡۖ قَالُواْ لَبِثۡنَا يَوۡمًا أَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٖۚ قَالُواْ رَبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ فَٱبۡعَثُوٓاْ أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمۡ هَٰذِهِۦٓ إِلَى ٱلۡمَدِينَةِ فَلۡيَنظُرۡ أَيُّهَآ أَزۡكَىٰ طَعَامٗا فَلۡيَأۡتِكُم بِرِزۡقٖ مِّنۡهُ وَلۡيَتَلَطَّفۡ وَلَا يُشۡعِرَنَّ بِكُمۡ أَحَدًا
Urdu
اور اسی عجیب کرشمے سے ہم نے انہیں اٹھا بٹھایا تاکہ ذرا آپس میں پوچھ گچھ کریں ان میں سے ایک نے پوچھا “کہو کتنی دیر اس حال میں رہے؟“دوسروں نے کہا “شاید دن بھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے” پھر وہ بولے “اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتنا وقت اس حالت میں گزرا چلو، اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے وہاں سے وہ کچھ کھانے کے لیے لائے اور چاہیے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے
English
And similarly, We awakened them that they might question one another. Said a speaker from among them, “How long have you remained [here]?” They said, “We have remained a day or part of a day.” They said, “Your Lord is most knowing of how long you remained. So send one of you with this silver coin of yours to the city and let him look to which is the best of food and bring you provision from it and let him be cautious. And let no one be aware of you
Tafsir — Bayan ul Quran
اصحابِ کہف جب سوکر اٹھے تو قدرتی طورپر وہ آپس میں ذکر کرنے لگے کہ وہ کتنی مدت تک سوئے ہوں گے۔ مگر زمانہ خدا کے حکم کے تحت ان کے لیے ٹھہر گیا تھا۔ اس لیے جو مدت دوسروں کے لیے صدیوں میں پھیلی ہوئی تھی وہ اصحابِ کہف کو بس ایک دن کے برابر معلوم ہوئی۔ سو کر اٹھنے کے بعد انھیں بھوک کا احساس ہوا۔ ان کے پاس کچھ چاندی کے سکے تھے۔ انھوںنے اپنے میں سے ایک شخص کو ایک سکّہ لے کر بھیجا۔ غالباً ان کا خیال ہوگا کہ شہر کے جن حصوں میں عیسائی بستے ہوں گے وہاں حلال کھانا مل سکے گا۔ اس لیے انھوںنے کہا کہ تلاش کرکے پاکیزہ کھانا لے آنا۔ نیز انھوںنے تاکید کی کہ سارا معاملہ نہایت خوش تدبیری سے انجام دینا۔ کیوں کہ سابقہ تجربہ کی بنا پر انھیں اندیشہ تھا کہ اگر وہ لوگ ہم سے باخبر ہوجائیں گے تو وہ ہمیں دوبارہ بت پرست بنانے کی کوشش کریں گے۔اور جب ہم راضی نہ ہوں گے تو وہ ہم کو مار ڈالیں گے۔