Recitation

Next: 23_28


Arabic

فَأَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡهِ أَنِ ٱصۡنَعِ ٱلۡفُلۡكَ بِأَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا فَإِذَا جَآءَ أَمۡرُنَا وَفَارَ ٱلتَّنُّورُ فَٱسۡلُكۡ فِيهَا مِن كُلّٖ زَوۡجَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِ وَأَهۡلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيۡهِ ٱلۡقَوۡلُ مِنۡهُمۡۖ وَلَا تُخَٰطِبۡنِي فِي ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ إِنَّهُم مُّغۡرَقُونَ


Urdu

ہم نے اس پر وحی کی کہ “ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق کشتی تیار کر پھر جب ہمارا حکم آ جائے اور تنور ابل پڑے تو ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا لے کر اس میں سوار ہو جا، اور اپنے اہل و عیال کو بھی ساتھ لے سوائے اُن کے جن کے خلاف پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے، اور ظالموں کے معاملہ میں مجھ سے کچھ نہ کہنا، یہ اب غرق ہونے والے ہیں


English

So We inspired to him, “Construct the ship under Our observation, and Our inspiration, and when Our command comes and the oven overflows, put into the ship from each [creature] two mates and your family, except those for whom the decree [of destruction] has proceeded. And do not address Me concerning those who have wronged; indeed, they are to be drowned


Tafsir — Bayan ul Quran

حضرت نوح لمبی مدت تک اپنی قوم کو تلقین کرتے رہے۔ مگر ان کی قوم ان کی بات ماننے کے ليے تیار نہ ہوئی۔ آخر کار حضرت نوح نے دعا کی کہ خدایا، میری دعوت وتبلیغ ان سے امرحق کو منوا نہ سکی۔ اب توہی ان پر امر حق کو ظاہر کردے۔مگر جب انسانی عمل کی حد ختم ہو کر خدائی عمل کی حد شروع ہو تو یہ مواخذہ کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ وعظ و تلقین کا۔ چنانچہ خدا کا حکم ناقابل تسخیر طوفان کی صورت میں ظاہر ہواا ور چند مومنین نوح کو چھوڑ کر بقیہ ساری قوم غرق ہو کر رہ گئی۔ امر حق کا اعتراف نہ کرنا سب سے بڑا ظلم ہے۔ جو لوگ اس ظلم کا ارتکاب کریں وہ ہمیشہ خدا کی پکڑ میں آجاتے ہیں۔ کوئی دوسری چیز انھیں اس پکڑ سے بچانے والی ثابت نہیں ہوتی۔


Connections

  • Previous: 23_26
  • Next: 23_28
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes