Recitation
Next: 23_29
Arabic
فَإِذَا ٱسۡتَوَيۡتَ أَنتَ وَمَن مَّعَكَ عَلَى ٱلۡفُلۡكِ فَقُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي نَجَّىٰنَا مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
Urdu
پھر جب تو اپنے ساتھیوں سمیت کشتی پر سوار ہو جائے تو کہہ، شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی
English
And when you have boarded the ship, you and those with you, then say, ‘Praise to Allah who has saved us from the wrongdoing people
Tafsir — Bayan ul Quran
شرک سے بھرے ہوئے ماحول میں جو چند افراد حضرت نوح پر ایمان لائے وہ اسی دن معنوی اعتبار سے خدا کی کشتی میں داخل ہوچکے تھے۔ اس کے بعد جب طوفان کے وقت وہ لکڑی کی بنائی ہوئی کشتی میں بیٹھے تو یہ گویا ان کے ابتدائی فیصلے کی تکمیل تھی۔ انھوں نے اپنے آپ کو فکری طورپر بدی کے طوفان سے بچایا تھا۔ خدا نے ان کو عملی طورپر بدی کے سخت انجام سے بچا لیا۔ مومن ہر کامیابی کو خدا کی طرف سے سمجھتا ہے۔ اس ليے وہ ہر کامیابی پر خدا کا شکر ادا کرتاہے۔ اور طوفان نوح سے نجات تو کھلا ہوا خدائی نصرت کا واقعہ تھا۔ ایسے موقع پر مومن کی زبان سے جو کلمات نکلتے ہیں وہ وہي ہیں جن کی ایک تصویر مذکورہ آیت میں نظر آتی ہے۔ وہ حال کے ليے خدا کی قدرت کا اعتراف کرتے ہوئے مستقبل کے ليے مزید عنایت کی التجا کرنے لگتا ہے، کیوں کہ اس کو یقین ہوتاہے کہ حال بھی خدا کے قبضہ میں ہے اور مستقبل بھی خداکے قبضہ میں۔