Recitation
Next: 33_8
Arabic
وَإِذۡ أَخَذۡنَا مِنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مِيثَٰقَهُمۡ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٖ وَإِبۡرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ٱبۡنِ مَرۡيَمَۖ وَأَخَذۡنَا مِنۡهُم مِّيثَٰقًا غَلِيظٗا
Urdu
اور (اے نبیؐ) یاد رکھو اُس عہد و پیمان کو جو ہم نے سب پیغمبروں سے لیا ہے، تم سے بھی اور نوحؑ اور ابراہیمؑ اور موسیٰؑ اور عیسیٰؑ ابن مریم سے بھی سب سے ہم پختہ عہد لے چکے ہیں
English
And [mention, O Muhammad], when We took from the prophets their covenant and from you and from Noah and Abraham and Moses and Jesus, the son of Mary; and We took from them a solemn covenant
Tafsir — Bayan ul Quran
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس منصوبہ کے تحت پیدا کیا ہے وہ امتحان ہے۔ یعنی موجودہ دنیا میں ہر قسم کے اسباب حیات دے کر اس کو آزادانہ ماحول میں رکھنا اور پھر ہر ایک کے عمل کے مطابق اس کو ابدی انعام یا ابدی سزا دینا۔ زندگی کی یہ امتحانی نوعیت لازماً یہ چاہتی ہے کہ آدمی کو اصل صورت حال سے پوری طرح با خبر کردیا جائے۔ اس مقصد کےلیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبری کا سلسلہ قائم فرمایا۔ پیغمبری کوئی لاؤڈاسپیکر کا اعلان نہیںہے۔ یہ ایک بے حد صبر آزما کام ہے۔ اس ليے تمام پیغمبروں سے نہایت اہتمام کے ساتھ یہ عہد لیا گیاکہ وہ پیغام رسانی کے اس نازک کام کو اس کے تمام آداب اور تقاضوں کے ساتھ انجام دیں گے۔ اور اس میں ہر گز کوئی ادنیٰ کوتاہی نہ کریں گے۔