Recitation
Next: 42_14
Arabic
۞شَرَعَ لَكُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِۦ نُوحٗا وَٱلَّذِيٓ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ وَمَا وَصَّيۡنَا بِهِۦٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰٓۖ أَنۡ أَقِيمُواْ ٱلدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُواْ فِيهِۚ كَبُرَ عَلَى ٱلۡمُشۡرِكِينَ مَا تَدۡعُوهُمۡ إِلَيۡهِۚ ٱللَّهُ يَجۡتَبِيٓ إِلَيۡهِ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِيٓ إِلَيۡهِ مَن يُنِيبُ
Urdu
اُس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اُس نے نوحؑ کو دیا تھا، اور جسے (اے محمدؐ) اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیمؑ اور موسیٰؑ اور عیسیٰؑ کو دے چکے ہیں، اِس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اِس دین کو اور اُس میں متفرق نہ ہو جاؤ یہی بات اِن مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف اے محمدؐ تم انہیں دعوت دے رہے ہو اللہ جسے چاہتا ہے اپنا کر لیتا ہے، اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے
English
He has ordained for you of religion what He enjoined upon Noah and that which We have revealed to you, [O Muhammad], and what We enjoined upon Abraham and Moses and Jesus - to establish the religion and not be divided therein. Difficult for those who associate others with Allah is that to which you invite them. Allah chooses for Himself whom He wills and guides to Himself whoever turns back [to Him]
Tafsir — Bayan ul Quran
تمام پيغمبر ايك هي دين لے كر آئے۔ اور وه دينِ توحيد هے۔ مگر ان پيغمبروں كے ماننے والے بعد كو الگ الگ ديني فرقوں ميں تقسيم هوگئے۔ اس كي وجه مركز توجه ميں تبديلي تھي۔ پيغمبروں كے اصل دين ميں مركز توجه تمام تر خدا تھا۔ هر ايك كي تعليم يه تھي كه صرف ايك خدا كے پرستار بنو۔ مگر ان كي امتوں نے بعد كو اپنا مركز توجه تبديل كرديا۔ وه خدا كے بجائے غير خدا كے پرستاربن گئے۔ قديم عرب كے لوگ ابتداء ً حضرت ابراهيم كي امت تھے۔ مگر بعد كو اپنے كچھ بزرگوں كي عظمت ان كے ذهنوں پر اس قدر چھائي كه انھيں كو انھوں نے اپنا مركز توجه بنا ليا۔ حتي كه ان كے بت بنا كر وه ا ن كو پوجنے لگے۔ يهود حضرت موسي كي امت تھے۔ مگر انھوں نے اپني نسل كو مخصوص نسل سمجھ ليا۔ ان كي توجهات اپني نسل كي طرف اتنا زياده مائل هوئيں كه بالآخر خدائي دين ان كے يهاں نسلي دين بن كر ره گيا۔ وه پيغمبر آخر الزماں كے صرف اس ليے منكر هوگئے كه وه ان كي اپني نسل ميں پيدا نهيں هوا تھا۔ اِسي طرح عيسائي حضرت عيسيٰ كي امت تھے۔ انھوں نے حضرت عيسيٰ كو خدا كا پيغمبر ماننے كے بجائے ان كو خدا كا بيٹا فرض كرليا۔ اس طرح بعد كو انھوں نے جو دين بنايا اس ميں ابنيت مسيح نے سب سے زياده اهميت حاصل كرلي۔ خدا كو اپنے بندوں سے جو دين مطلوب هے وه يه هے كه وه خالص توحيد پر قائم هوں۔ صرف ايك خدا ان كي تمام توجهات كا مركز بن جائے۔ يهي اقامتِ دين هے۔ اس مركز توجه ميں تبديلي كا دوسرا نام شرك هے۔ اور جب لوگوں ميں شرك آتا هے تو فوراً تفريق اور اختلاف شروع هوجاتا هے۔ كيوں كه توحيد كي صورت ميں مركز توجه ايك رهتا هے، جبكه شرك كي صورت ميں مركز توجه كئي بن جاتے هيں۔ پيغمبر عربي صلي الله عليه وسلم كا دين اگرچه اپنے متن كے اعتبار سے محفوظ دين هے۔ مگر آپ كي امت محفوظ امت نهيں۔ امت كے لوگوں كے لیے بدستور يه امكان كھلا هوا هے كه وه نئي نئي چيزوں كو اپنا مركز توجه بنائيں۔ وه خود ساخته تشريح وتعبير كے ذريعه اصل دين ميں تبديلياںکریں اور پھر ايك دين كو عملاً كئي دين بنا كر ركھ ديں۔